[RIGHT]پیچھے رہ جانے والے لوگ
انسانی تہذیب کی تاریخ کوئی بہت زیادہ پرانی نہیں ہے اور بمشکل پچھلے پانچ سے چھہ ہزار سال ہی پیچھے تک جایا جاسکتا ہے جب نیم انسان نے انسان کا روپ دھار کر انسانی تہذیبوں کا بنیاد رکھا. اس تہذیبی سفر کو چند بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن کو آج ہم انقلاب کے نام سے جانتے ہیں جیسے کہ غار والے دور سے زرعی دور میں داخل ہونا. زرعی سے صنعتی دور میں داخل ہونا جس نے بلو کالر ورکنگ کلاس کو جنم دیا آپ آسان زبان میں اسے ہنرمند کلاس بھی کہہ سکتے ہیں جن کے دم سے صنعت نے پھلنا پھولنا شروع کیا. زرعی اور صنعتی انقلاب کی طرح ایک اور انقلاب بھی آیا جس پر نسبتاً کم بات ہوتی ہے اور وہ تھا تعلیمی انقلاب جس کے توسط سے مڈل کلاس کا ارتقاء ہوا، آسان زبان میں اسے وائٹ کالر ورکنگ کلاس کہتے ہیں۔
پر اس تمام تاریخ (کہ جس میں انسانی تہذیب ایک سے دوسرے انقلاب میں قدم رکھتی رہی) کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور وہ ہے ان انقلابات کے نتیجے میں ایک مخصوص طبقے کا آگے بڑھنا اور باقی کے طبقات کا پیچھے رہ جانا جو کہ ظاہر سی بات ہے کہ ان پیچھے رہ جانے والے لوگوں میں احساس کمتری پیدا کرتا ہے جو بعد میں طبقاتی جنگ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ غار سے زراعت کا سفر زیادہ تر جغرافیائی وجوہات کی بنا پر ممکن ہوا وہ جگہیں جہاں زمین زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتی تھی وہاں رہنے والوں کو فائدہ ملا. اس کے نتیجے میں سوکھے سے زرعی میدانوں کی طرف انسانوں نے نقل مکانی شروع کی جو اس زمانے کی جیو پولیٹکل جنگوں کی وجہ بنی۔ لیکن باوجود اس کے انسانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس زرعی انقلاب کا حصہ نہ بن پایا آج بھی آپ دور پرے کے جزائر اور جنگلات میں ایسے کئی قبائل باآسانی دیکھ سکتے ہیں جو اس دور میں بھی آپ کو نیم انسان ہی نظر آئیں گے، یہ وہ لوگ تھے جو کبھی زرعی انقلاب کا حصہ نہ بن پائے، اِن کی شرح البتہ کم ہی رہی اُن کے مقابلے میں جو زرعی دور میں ضم ہوگئے.
یہ پیچھے رہ جانے والا مسئلہ صنعتی انقلاب کے دور میں اور بھی بڑا رہا. جہاں جہاں جن جن ممالک میں صنعت نے پھلنا پھولنا شروع کیا وہاں بھی ایک مخصوص طبقہ ہی بلو کالر ورکر بن کر نسبتاً اپنی پچھلی نسلوں کے مقابلے میں اپنا معیار زندگی بہتر بنا پایا لیکن جو لوگ اس صنعتی انقلاب کا حصہ نہیں بن پائے وہ ماضی میں رہ کر احساس محرومی کا شکار رہے. پچھلی کچھ دہائیوں کے تعلیمی انقلاب کے نتیجے میں پیچھے رہ جانے والے لوگوں کا تناسب اس تناسب سے کئی گنا زیادہ تھا جو پچھلے انقلابات کے دوران پیچھے رہ گئے تھے۔ احساس محرومی بڑھی اور ساتھ ہی ساتھ طبقاتی جنگیں بھی جن کے تانے بانے آج کے دور کے جرائم، شدت پسندی، دہشتگردی اور عدم برداشت سے بھی جوڑے جاسکتے ہیں۔
اب آج ہم بہت خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے ایک نئے انقلابی دور میں داخل ہورہے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں جہاں آنے والے سالوں میں کتنے ہی پیشے مشینوں اور روبوٹس سے بدلے جائیں گے۔ حیران مت ہوئیے گا جب آپ کے گھر میں کام کرنے والا ملازم اپنی نوکری اس لئے کھو بیٹھے گا کیونکہ اب خانسامہ مالی صفائی کرنے والا ایک روبوٹ آچکا ہوگا. اسی طرح گھر تعمیر کرنے والے روبوٹ، دکان پر سیلز والے روبوٹ، فیکٹری میں زیادہ سے زیادہ خودکار نظام، بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں یہ سب زیادہ دور نہیں. پر کیا اس نئے آنے والے انقلاب کا سب یا دنیا کی ایک بڑی آبادی حصہ بن پائے گی ؟ کیا دنیا کی اکثریتی آبادی نے اپنے آپ کو اس نئے آنے والے انقلاب کی تیاری شروع کی ہے ؟ کیا اس موجودہ نسل نے آنے والی نسلوں کی تعلیم کے لئے وہ منصوبہ بندی کی ہے جس سے یہ نئی نسلیں اس ٹیکنالوجیکل انقلاب میں باآسانی ضم ہوسکیں بلکہ کیا آج کی نسل کو خود بھی اس بات کا شعور ہے کہ آنے والا دور کیسی تبدیلیاں لے کر آنے والا ہے۔
اس نئے دور میں پیچھے رہ جانے والے لوگوں کا تناسب پچھلے انقلابات کے نتیجے میں پیچھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ہوگا اور بڑھتی ہوئی آبادی اس مسئلے کو اور زیادہ گھمبیر بناتی ہے۔
[/RIGHT]
https://scontent-lhr3-1.xx.fbcdn.net/v/t1.0-0/s403x403/23376155_222323841639540_1178403035624919733_n.jpg?oh=c3bdc743ae172fb2a1199be886f81a65&oe=5A992945https://scontent-lhr3-1.xx.fbcdn.net/v/t1.0-9/23559554_222323858306205_3844392844046545956_n.jpg?oh=83e2eebac9912d94829135e1a97fbe16&oe=5AA03CB1https://scontent-lhr3-1.xx.fbcdn.net/v/t1.0-0/p240x240/23319443_222323874972870_5261296806020672647_n.jpg?oh=de731c1576ee86374dc0944e6220a7af&oe=5A69DD1Dhttps://scontent-lhr3-1.xx.fbcdn.net/v/t1.0-0/p370x247/23380325_222323894972868_911251063394095071_n.jpg?oh=0b661a97453d47987b5645d694e2fd4f&oe=5A6AD79E
From South Asian Free Thinkers