بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
سُرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے
کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا
بات تو کچھ بھی نہیں تھی لیکن اُس کا ایک دم
ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا
چائے میں چینی ملانا اُس گھڑی بھایا بہت
زیرِ لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے لئے
وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
اس عدوئے جاں کو امجھ میں بُرا کیسے کہوں
جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا
امجد اسلام امجد