Thats a difference of perception. What Iqbal showed through his poetry was his vision. He saw what other people couldnt see. He understood Quran better than most molvis and thats what you can see from his poetry as well. Now from their onwards, people took notes that yes Hindus and Muslims cannot live together so that constituted the basis of partition. Calling him separatist is an insult. He was a true visionary leader.
And btw I just read somewhere some of the Indians called him biggest “bigot” and “fanatic”. And we all know he was the exact opposite of that. So again its the perception.
The son wnated a gramophone as a gift from the father on return from England. Iqbal didnt bring it and wrote a poem for him instead.
Tera tareeq ameeri nahi faqeeri hai.
The son was criticized on giving controversial statement regarding vine saying it is not haram.
"Meer-e-Arab (S.A.W.) Ko Aayi Thandi Hawa Jahan Se
Mera Watan Wohi Hai, Mera Watan Wohi Hai
I am sure that javaid iqbal wouldnt know which hadith Iqbal is referring to in this shair.
12 masalay ka chooran
pro mulla , anti mulla
pro communism anti communism
pro-nationalism , anti nationalism
pro-modernism ,anti modernism
What ever you want , you can find
If want nothing , than enjoy ‘khudi’ Khud ki marzi
Show me pro communism verse by iqbal. Agr tume urdu nahi aati to bak bak na kro.
Zardari k pujarion se jinnah ki izzat mehfooz nahi Iqbal kia cheez ha. Dhetaee se apnay shora peenay wala kirdar pe fakhar krtay ho aur Iqbal ki krdar pe bat krtay ho. Ghatya insan.
[RIGHT]**نو نومبر آیا اور پھر سے وہی اقبال والی بحث شروع ہوئی کچھ پوسٹس میں اقبال کو جعلی فلسفی، چربہ ساز شاعر قرار دیا گیا اور جواب میں اقبال کی فین کلب نے وہی پرانا دفاع دہرایا کہ آپ نے اقبال پڑھا ہی کہاں ہے۔****تقدس کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں انہی میں سے اقبال بھی ایک قسم نظر آتی ہے جس سے ہمارے بہت سے دوست متاثر نظر آتے ہیں۔ سچ کہوں تو “کیا آپ نے اقبال پڑھا ہے” والی دلیل بہت حد تک ایک مغالطہ ہی ہے کیونکہ اول تو اقبال پر تنقید سے مقصد اقبال کی شاعری میں تکنیکی نقص نکالنا نہیں ہوتا کہ جس کے لئے یہ شرط عائد ہو کہ ایک تو آپ کو شاعری کی مکمل سمجھ ہونی چاہئے اور دوسرا آپ نے اقبال کو پڑھا ہونا چاہئے اتنا کہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر کسی نے اقبال کو پڑھ کر بھی اقبال پر تنقید کرنی ہو تب بھی اس کی تنقید کو کسی نہ کسی اور وجہ سے رد ہی کیا جائے گا جیسے کہ پچھلے دنوں بھنڈر صاحب کے ساتھ معاملہ ہوا تو یعنی ایسا کوئی جادوئی فارمولہ نہیں بنایا جاسکتا کہ اگر آپ نے اتنا اتنا پڑھا ہوا ہے تب ہی آپ کی تنقید کو مانا جاسکے گا۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اقبال کو جس مقام پر رکھا گیا ان لوگوں نے بھی اقبال کو پڑھ اور سمجھ کر یہ مقام نہیں دیا تھا اور نہ ہی اقبال کا دفاع کرنے والوں کی اکثریت اقبال کو اس وجہ سے بڑا مفکر اور شاعر مانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اقبال کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہوتا ہے بلکہ اس جذباتیت کے پیچھے کسی نہ کسی طرح کی بچپن سے کی گئی ذہن سازی ہی کارفرما ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم میں سے اکثر نے آئن اسٹائن کو نہیں پڑھا ہوتا کارل ساگن کو نہیں پڑھا ہوتا مگر انہیں عظیم سائنسدان مانتے ہیں ۔ ہٹلر کو نہین پڑھا ہوتا مگر اسے جنگی مجرم ہی مانتے ہیں، کہنے کا مقصد ہے کہ یہ اقبال پڑھنے والی ضد بحث میں نیچا دکھانے کے لئے تو کام آنے والی دلیل ہوسکتی ہے پر اس سے زیادہ شاید کچھ نہیں۔اس پوری بحث میں یہ بات یکسر نظر انداز کی جاتی ہے کہ اقبال پر جو سنجیدہ تنقید ہورہی ہے وہ ان کی شاعری اور اس کے تکنیکی پہلوئوں پر نہیں بلکہ ان افکار پر ہوتی ہے جو اقبال سے نتھی ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے کتنے افکار خود اقبال کے اپنے تھے اور کتنے بعد میں ان کے چاہنے والوں نے نظریاتی ضرورتوں کے تحت اقبال سے جوڑ دیے لیکن جو نظریات اقبال سے بنا کسی شک کی جڑے ہیں یا جن کو سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ افکار آج کے دور میں غیر متعلقہ ہوچکے ہیں بلکہ کچھ تو مکمل طور پر رد ہوچکے ہیں ان افکار پر اور ان افکار کی وجہ سے اقبال پر تقید کے لئے آپ پر یہ لازم نہین کہ آپ خود اعلی پائے کے سکہ بند شاعر ہوں یا پھر کم سے کم آپ نے اقبال کو اس شخص سے زیادہ پڑھا ہوا ہو جس کے سامنے یہ بحث ہورہی ہے۔ شاہین کا تصور، مغرب سے خفت، جمہوریت سے اختلاف، سیاست میں دین، خواتین کو کم سمجھنا (یہاں البتہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح اقبال بھی اپنے دور کی پیداوار تھے، یہی تنقید نئیشے تک پر ہوتی ہے)، اور اس طرح کے کئی افکار ایسے ہیں جو وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے سے قاصر رہے اور آج ایسا کوئی بھی گزرا ہوا عالم شاعر یا مفکر جس نے ان افکار کی تعلیم دی ہوگی وہ لازمی طور پر تنقید سے گزرے گا۔ مجھ اور آپ سمیت جتنے لوگ جن بھی خیالات و نظریات کا پرچار آج کریں گے وہ افکار اگر کل کو ناکام رہے تو آنے والی نسلیں ہم پر تنقید ہی کریں گی ان کو ہمارا دفاع کرنے والے یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ بھائی آپ ان صاحب کو پڑھیں کیونکہ ہمیں جتنی بار بھی پڑھا جائے ہماری سوچ کا ماخذ وہی رہے گا جس کا ہم نے پرچار کیا ہوگا۔ ہمارے مستقبل میں ہم پر تعریف یا تنقید براہ راست ان نظریات کی کامیابی یا ناکامی سے جڑی ہوگی جن کا پرچار آج ہم نے کیا ہوگا۔
مائی ٹو سینٹس ۔ سلامت رہیں