:bummer:
**
ایسی ہی سرد شام تھی وہ بھی
جب وہ مہندی رچائے ہاتھوں میں
اپنی آہت کے خوف سے لرزاں
سرخ آنچل میں مونہہ چھپائے ہوئے
اپنے خط مجھ سےلینے آئی تھی
اس کی سہمی ہوئی نگاہوں میں
کتنی خاموش التجائیں تھیں
اس کے چہرے کی زرد رنگت میں
کتنی مجبوریوں کے سائے تھے
میرے ہاتھوں سے خط پکڑتے ہی
جانے کیا سوچ کر اچانک وہ
میرا شانہ پکڑ کر روئی تھی
اس کے یاقوت رنگ ہونٹوں کے
کپکپاتے ہوئے کناروں پر
سینکڑوں ان کہے فسانے تھے
سرد شاموں میں دیر تک اکثر
جب یہ منظر دکھائی دیتا ہے
اک لمحہ حنائی ہاتھوں سے
مجھ کو اپنی طرف بلاتا ہے
ہمنشیں روٹھ کر نہ جا مجھ سے
ایسی ہی سرد شام تھی وہ بھی !
میرے ہاتھوں سے خط پکڑتے ہی
جانے کیا سوچ کر اچانک وہ
میرا شانہ پکڑ کر روئی تھی
اس کے یاقوت رنگ ہونٹوں کے
کپکپاتے ہوئے کناروں پر
سینکڑوں ان کہے فسانے تھے
سرد شاموں میں دیر تک اکثر
جب یہ منظر دکھائی دیتا ہے
اک لمحہ حنائی ہاتھوں سے
مجھ کو اپنی طرف بلاتا ہے
ہمنشیں روٹھ کر نہ جا مجھ سے
ایسی ہی سرد شام تھی وہ بھی !
(امجد اسلام امجد)
**