**
اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے
شام کے بعد بھی سورج نہ بُجھایا جائے
آج کے دَور میں انصاف کے معنی یہ ہیں
رُوح مر جائے، مگر جِسم بچایا جائے
نئے انساں سے تعارف جو ہوا تو بولا
مَیں ہوں سقراط، مجھے زھر پلایا جائے
مُجھ کو دعویٰ تو ہے کانٹوں کو بھی روند آنے کا
اور پھولُوں سے بھی دامن نہ چھُڑایا جائے
موت سے کِس کو مفر ہے، مگر انسانوں کو
پہلے جینے کا سلیقہ تو سکھایا جائے
یوں بھی ہو سکتی ہے آویزشِ خیر و شر ختم
پھر سے شیطاں کو عزازیل بنایا جائے
مَیں محبت کا پجاُری ہوں، عقیدوں کا نہیں
اِن بُتوں کو میرے رستے سے ہٹایا جائے
مَیں قیامت کا تو مُنکر نہیں، لیکن واعظ
مُجھ سے انساں کو تماشا نہ بنایا جائے
حکم ہے، سچ بھی قرینے سے کہا جائے ندیم
زخم کو زخم نہیں، پھول بتایا جائے**
**
**