بلوچستان میں نوے بلوچ سرداروں کے جرگے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد بلوچستان کی ریاستِ قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔
نوے بلوچ سرداروں کا یہ جرگہ خان آف قلات سلمان داؤد کی صدارت میں قلات میں منعقد ہوا جسہلاکت اور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی شدید میں نواب اکبر بگٹی کی مذمت کی گئی۔
قلات سے بی بی سی اردو سروس کے نمائندے عزیز اللہ خان نے اطلاع دی ہے کہ جرگے کے بعد ثناء اللہ زہری نے جرگے میں کیے گئے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔اجلاس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے اور نواب اکبر بگٹی کی جائیداد جو ان کے مخالفین میں بانٹی جارہی ہے ان کے ورثاء کے حوالے کی جائے۔
اس جرگے کے بعد موقع پر موجود بلوچ نوجوانوں نے ’ آزادی، آزادی ۔۔۔‘ کے نعرے بلند کیئے۔
جرگے میں نواب ذوالفقار علی مگسی، سردار بلخ شیر مزاری، سردار اختر مینگل، سردار ثناء اللہ زہری، اور نواب اسلم رئیسانی سمیت نوے بلوچ سرداروں نے شرکت کی۔
جرگے کے بعدخان آف قلات سلمان داؤد نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ریاستِ قلات نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاہدہ برابری کی بنیاد پر کیا تھا اور اس کے تحت چار شعبے – دفاع، مواصلات، خارجہ امور اور خزانہ – کے علاوہ باقی تمام معاملات میں صوبے بلوچستان کو خود مختاری حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت بلوچستان کے وسائل اور زمین پر صوبے کو اختیار حاصل ہو گا۔
سلمان داؤد نے کہا کہ ساٹھ سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا اور اس بات کی امید نہیں کہ آئندہ بھی اس پر عمل کیا جائے گا۔
sorry if you cant read urdu
نوے بلوچ سرداروں کا یہ جرگہ خان آف قلات سلمان داؤد کی صدارت میں قلات میں منعقد ہوا جسہلاکت اور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی شدید میں نواب اکبر بگٹی کی مذمت کی گئی۔
قلات سے بی بی سی اردو سروس کے نمائندے عزیز اللہ خان نے اطلاع دی ہے کہ جرگے کے بعد ثناء اللہ زہری نے جرگے میں کیے گئے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔اجلاس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے اور نواب اکبر بگٹی کی جائیداد جو ان کے مخالفین میں بانٹی جارہی ہے ان کے ورثاء کے حوالے کی جائے۔
اس جرگے کے بعد موقع پر موجود بلوچ نوجوانوں نے ’ آزادی، آزادی ۔۔۔‘ کے نعرے بلند کیئے۔
جرگے میں نواب ذوالفقار علی مگسی، سردار بلخ شیر مزاری، سردار اختر مینگل، سردار ثناء اللہ زہری، اور نواب اسلم رئیسانی سمیت نوے بلوچ سرداروں نے شرکت کی۔
جرگے کے بعدخان آف قلات سلمان داؤد نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ریاستِ قلات نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاہدہ برابری کی بنیاد پر کیا تھا اور اس کے تحت چار شعبے -- دفاع، مواصلات، خارجہ امور اور خزانہ -- کے علاوہ باقی تمام معاملات میں صوبے بلوچستان کو خود مختاری حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت بلوچستان کے وسائل اور زمین پر صوبے کو اختیار حاصل ہو گا۔
سلمان داؤد نے کہا کہ ساٹھ سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا اور اس بات کی امید نہیں کہ آئندہ بھی اس پر عمل کیا جائے گا۔
sorry if you cant read urdu
Credit to BBC
Well i m getting tired of this fight...I know i can't relate with mazari's,mengal's,zahri's ,magsi's etc etc...but if they want autonomy they should be given one!
Ninety Baloch Sardars have decided in a Jirga that International Court Of Justice should be contacted to enforce the contract of accession with Pakistan. The Jirga met under the Chair of Khan Of Kallat Salman Dawood and disapproved of the Army operation in Balochistan. BBC’s reporter from Kallat reports that Sana Ullah Zeri later announced the major decisions taken in the Jirga in which it was demanded that the operation is stopped immediately and Akbar Bugti’s property is handed over to his heirs instead of being distributed among his enemies. Young Balochs in the Jirga raised the slogans Freedom Freedom. Zulfiqar Ali Magsi, Sardar Balkh Sheer Mazari, Sardar Akthar Mengal,Sardar Sana Ullah Zeri and ninety other Baloch sardars participated. Khan Of Kallat Salman Dawood told BBC Urdu afterwards that the contract of accession was doen on the basis of equality in four major categories namely defence, communications, foreign affairs and treasury and the province will be independent in all other areas. He added that according to this contract the province has total control over its land and natural resources. He said that sixty years have passed and this contract has not been enforced so there is no hope that it will be in future.
everone screams that thier rights are being violated and the only solution is dissolvement of Pakistan, as that would solve all thier problems. How abt everyone start doing his duties and forget his rights for a while. If everyone start doing thier duties then no one's rights will be violated. It is funny that Balooch sardar should talk abt democracy. lolz