موصل ميں داعش کے تسلط کے خاتمے کے 8 ماہ بعد ادبی ثقافت کی بحالی
ايک ايک کتاب کے ذريعے موصل کی بحالی کا عمل جاری
عراقی شہری فہد کا کہنا ہے کہ
“وہ کتابوں کو جلا رہے تھے، ثقافت کو تباہ کر رہے تھے اور لوگوں کی سوچ کو برباد کر رہے تھے۔ وہ ہماری تاريخ کو ہمارے ذہنوں سے نکالنے کے درپے تھے۔ داعش کے ليے لوگوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کے ليے ضروری تھا کہ وہ ثقافت کو ختم کريں اور علم تک رسائ کے تمام راستے بند کر ديں۔ ان (داعشی) قابضين نے قريب ايک لاکھ کتابيں ضائع کر ديں”۔
داعش نے نا صرف يہ کہ شہريوں کو نشانہ بنايا اور ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی بلکہ انھوں نے موصل شہر کی تاريخ، ثقافت اور ادبی تہذيب کو بھی نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
داعش کی شکست کے بعد اب يہ شہر اور اس کے بہادر شہری اپنی شناخت کے حصول کے ليے بھرپور کوششيں کر رہے ہيں۔
ايک بہادر عراقی شہری کی حيرت انگيز کہانی جس نے نا صرف يہ کہ کتابوں سے اپنی رغبت کو برقرار رکھا بلکہ عراق کی اگلی نسل ميں بھی ادب سے محبت کے جذبے کو برقرار رکھنے کے ليے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
جہاں دنيا بھر کے مسلمان رمضان کے مہينے ميں روايتی جوش وخروش کا مظاہرہ کر رہے ہيں، اسی طرح موصل کے شہری بھی داعش کی شکست کے بعد پہلی بار آزاد فضا ميں رمضان کی خوشيوں ميں شريک ہيں۔
دنيا بھر کے مسلمانوں کے ليے رمضان کا مہينہ روزہ، عبادات اور افطار کے ذريعے انسان دوستی اور بھائ چارے کا پيغام لے کر آتا ہے۔ ليکن موصل کے مسلمان جو گزشتہ تين برسوں سے اپنی زندگيوں کی بقا کے ليے لڑ رہے تھے، رمضان کا مہينہ انھيں محض اچھے دنوں کی ياد دلاتا تھا جب وہ داعش کے دہشت گردوں کی خونی کاروائيوں سے بچنے کی حکمت عملی کی بحاۓ مذہبی روايات اور فرائض کی ادائيگی ميں صرف کرتے تھے۔
موصل کے شہری رمضان کی روايات اور برکات سے محروم تھے اور داعش کے زير اثر خوف کے عالم ميں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
تاہم اس سال ان کے خواب اور ان کی خواہشات حقيقت کا روپ دھار چکی ہيں اور وہ بھی دنيا بھر کے مسلمانوں کی طرح رمضان پورے جوش وخروش سے منا رہے ہيں۔
ايک مقامی عراقی شہری نے اس سال رمضان کے موقع پر اپنی خوشيوں کو ان الفاظ کے ساتھ بيان کيا
“اس سال رمضان کے مہينے کا موازنہ گزشتہ برسوں سے کيا ہی نہيں جا سکتا ہے۔ اس وقت ہم ايک قيد ميں تھے۔ ہر چيز پر پابندی تھی۔ مجھے رمضان سے بے انتہا لگاؤ ہے کيونکہ اس مہينے ميں اپنے آپ سے، اپنے گھر والوں سے اور اپنے لوگوں سے ايک خاص قربت محسوس کرتا ہوں۔ ميں اپنی زندگی کو دوبارہ حاصل کر کے بے انتہا خوشی محسوس کر رہا ہوں، بالکل اسی طرح جيسے داعش کے وجود سے پہلے رمضان کے مہينے ميں محسوس کيا کرتا تھا۔”
بصرہ سے ايک تھيٹر کمپنی کے گروپ کا رمادی شہر آمد پر پرتپاک استقبال۔ تھيٹر کمپنی نے سٹيج پرفارمنس سے سب کے دل جيت ليے۔
عراقی عوام کی مزاحمت، بے مثال قربانياں اور ان کا عزم ان کے ليے آزادی کی نويد لے کر آيا ہے اور عام لوگ ايک بار پھر سکون کے ماحول ميں زندگی کی رعنائيوں سے لطف اندوز ہو رہے ہيں۔
عام عراقی عوام کی جانب سے روايتی ثقافتی سرگرميوں ميں بڑھ چڑھ کر شرکت داعش کی اس دقيانوسی سوچ اور طرز زندگی کی بھی نفی ہے جو وہ تشدد اور انتہا پسندی کے ذريعے عام لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔