Re: حسرت ہی رہی ہے اسے ارماں ہی رہا ہے
چاہا بھی تو اس حد سے وہ آگے نہیں آیا
اِتنا ہے کہ نزدیکِ رگِ جاں ہی رہا ہے
is k bary mein kya khayal hai
Re: حسرت ہی رہی ہے اسے ارماں ہی رہا ہے
چاہا بھی تو اس حد سے وہ آگے نہیں آیا
اِتنا ہے کہ نزدیکِ رگِ جاں ہی رہا ہے
is k bary mein kya khayal hai