Timepass December 2014 (Bheega Huwa Mosam)

Re: Timepass December 2014 (Bheega Huwa Mosam)

ye naya aaya hai market main ‘DA’ish ke khilaaf’.

[urdu]
[RIGHT]تمہارا روز روشن تو ہماری ماتمی شب تهی
تمہیں ملتے رہے صدیوں سے سر مال غنیمت میں
خدائے آختہ کی باختہ جنت کی قیمت میں
اور اس خود ساختہ تاریخ کے اکثر جو ہیرو تهے
وہ پرلے درجے کے ظالم، منافق، پاجی .. زیرو تهے
خدائی کهیلوں میں ہم لوگوں نے لاشے سمیٹے ہیں
تم ازلی/عرشی آقا ہو .. ہم ابدی/فرشی ہیٹے ہیں
ڈرو اب .. غصے کی فصلیں درانتی پر لپیٹے ہیں
ہٹو .. خالی کرو یہ تخت .. ہم داہر کے بیٹے ہیں

[/RIGHT][/urdu]