MQM tukre dur tukre

Re: MQM tukre dur tukre

**ایم کیو ایم کے ووٹرز یا ہمدردوں کی ایک بڑی تعداد اس پارٹی کا ساتھ دینے پر مجبور تھی اور اب بھی ہے۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔

سب سے بڑی وجہ کراچی میں بسنے والی غیر اردو بولنے والی قومیں ہیں جن میں پشتون کمیونٹی سرفہرست ہے۔ پشتونوں میں ایک بڑی تعداد منشیات کے سوداگر اور اسلحہ کے تاجر اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد ہیں۔ گو کہ ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد امن پسند اور محنت کش ہے مگر ان کے ساتھ مجرم طبقہ بے حد طاقتور ہے۔ 1986 میں پٹھانوں نے اورنگی ٹاؤن سے ملحقہ علی گڑھ کالونی میں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملے کرکے تقریباً 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پٹھانوں کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے مہاجروں کو ایم کیو ایم میں جائے پناہ نظر آئی۔

اس کے بعد 1988 کے الیکشن سے قبل سندھی دہشت گردوں کی فائرنگ سے 162 مہاجر افراد حیدرآباد میں مار دیے گئے۔

بہت ممکن ہے کہ پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس طرح کے واقعات انجینئر کر رہی تھی تا کہ ایم کیو ایم کا ووٹ بنک بڑھایا جاسکے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ساری کارستانی ایجنسیوں کی تھی۔

مگر عام مہاجر عوام کو عافیت اس میں نظر آئی کہ وہ ایم کیو ایم کا ساتھ دیں۔

ایم کیو ایم میں چوں کہ عسکریت پسندی شروع سے تھی، تو مہاجروں کا سیاسی طاقت حاصل کرلینا، غیر اردو بولنے والے پٹھانوں، پنجابیوں اور سندھی بلوچوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

پٹھان اسلحے کو اپنا زیور بنا کر گھومیں پھریں، کوئی مسئلہ نہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچ اسلحہ رکھیں، سب خیر ہے۔ مگر مہاجروں کے ہاتھ میں اسلحہ آجائے تو ان سب کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ دوغلی پالیسی کیوں؟

اگر ایم کیو ایم والوں کا اسلحہ رکھنا اور بدمعاشی کرنا غلط ہے، تو یہ کام باقی قوموں کے لیے بھی غلط ہونا چاہیئے۔**