میں کون ہوں… کیا ہوں؟مت پوچھو… مت سمجھومیری جستجو… میری آرزورنج ہے… پچھتاوا ہے…پہاڑوں سے اترتی ہوئی کہر میں لپٹا ہواپت جھڑ کی زرد لہر میں سمٹا ہواسوکھے گلابوں کے جیسامیرا چہرہمیری آوارگی… تیری عاشقی نہیںمیری زندگی… تیری بندگی نہیںمیری حثییت… سراب جانومیری محبت… خواب جانوخوابوں کا حاصل تاریک راتیںبجھے ہوئے دیپ… اشکوں کی سوغاتیںجب یہ رنگ روپ بکھرنے لگےتیری میٹھی نظر بدلنے لگےمیری ہستی کے شعلوں میںتیرا شبنمی وجود جلنے لگےتو با آواز بلند دعا کرنااے میرے خدا!!وفا کے داغ مٹا دےنفس کا پجاری جلا دےبھوکے بدن کے لبریز پیالوں سےلہوکے دریا بہا دےتم جو چاہو تومجھے لہو سے آزاد کر دوجلا کر راکھ کر دوحد سے گزرو تو اتنا کرومیری زندہ لاش سنگسار کر دومگر اے جان تمنا…فصیل جان کے اس پاراک صنم خانہ دیکھنامیرے مقصد، میری منزل کی حدوں میںمیرے شوق، میرے جنوں کے دیوتائوں میںاک شکستہ محبت کا بتندامت سے سرشار دیکھنااک تھکے ہوئے پجاری کاحقیقت بھرا فسانہ دیکھنااپنی بےوفا محبت کا اتنا تو بھرم رکھتا ہوںمیں مجرم نہیں مگر احساس جرم رکھتا ہوں…!وہ ایک بار بھی مجھے مجرم کہے تو سہیمیں اپنے آپ کو ہر جرم کی سزا دوں گا