Re: me ab merna chahti hun
مرنے سے بھی پہلے مر گئے تھے
جینے سے کچھ ایسے ڈر گئے تھے
رستے میں جہاں تلک دیے تھے
سارے مرے ہمسفر گئے تھے
آنکھیں بھی نہیں کھل سکیں تھیں
اور خواب مرے بکھر گئے تھے
جب تک نہ کھلا تھا اس کا وعدہ
موسم مرے بے ثمر گئے تھے
اب تک وہی نشہ پزیرائی
کل خواب میں اس کے گھر گئے تھے
ملتا نہ تھا واپسی کا رستہ
کیا جانیے ہم کدھر گئے تھے
پروین شاکر