[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
ستم ظريفی ديکھيے کہ ايک خالص مقامی سياسی تنازعہ اور اس کے نتيجے ميں فريقين اور سياسی قوتوں کے مابين جنم لينے والا سياسی تناؤ ايک ايسا رخ اختيار کر گيا ہے جہاں مسلۓ کے دونوں طرف موجود فريقين اور ان کی حمايت کرنے والے امريکی مخالفت کے اسی گھسے پٹے نعرے کا سہارا لے رہے ہيں۔
ايک جانب اسلام آباد ميں دھرنے اور احتجاجی مظاہروں کی قيادت کرنے والے قائدين امريکہ پر موجودہ جمہوری حکومت کی حمايت کا الزام دھر رہے ہيں، باوجود اس کے کہ پاکستان کے جاری سياسی حالات پر سوال کيے جانے پرہمارا موقف اور بيان وہی تھا جو اس حوالے سے کسی بھی بيرونی ملک کی حکومت کی جانب سے سامنے آنا چاہيے تھا۔
دوسری جانب کچھ ميڈيا کے تجزيہ نگار اور سابقہ حکومتی عہديدار جو پاکستان ميں جاری ان احتجاجی تحريکوں کے مخالف ہيں وہ بھی اس “پيچيدہ سازش” کے ليے ہميں ہی مورد الزام قرار دے رہے ہيں اور اس بات پر بضد ہيں کہ ان سياسی “کھلاڑيوں” کو ہم نے ہی ميدان ميں اتارا ہے۔ ان سازشی کہانيوں کی حقيقت اور ان کے مستند ہونے پر يوں تو کئ سوال اٹھاۓ جا سکتے ہيں ليکن کيا بات ماننے والی ہے کہ ايک مبينہ امريکی کٹھ پتلی عمران خان تو گزشتہ کئ برسوں سے خود امريکی حکومت کی پاليسيوں کے خلاف احتجاجی تحريکوں اور ريليوں کی قيادت کر رہا ہے۔ يہاں تک کہ خيبرپختون خواہ جہاں پر ان کی پارٹی کی حکومت ہے، وہاں پر تو کئ ماہ تک نيٹو کی سپلائ بندش کا شکار رہی۔
اگر ہم اپنی مبينہ کٹھ پتلی کو نيٹو کے راستے بحال کرنے کے ليے قائل نہيں کر سکے اور جس کا ہميں مالی نقصان بھی ہوا اور افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو بھی ٹھيس پہنچی تو پھر اطمينان رکھيں کہ ہم انھيں اس بات پر بھی قائل نہيں کر سکتے کہ اسلام آباد ميں موجودہ حکومت کے خلاف تحريک چلائيں۔
اور وہ راۓ دہندگان اور تجزيہ نگار جو انتہائ غير منطقی دليل کے ساتھ اس سوچ پر يقين رکھتے ہيں کہ پاکستان ميں کسی بھی قسم کی سياسی افراتفری يا عدم استحکام امريکہ کے مفاد ميں ہے، انھيں چاہيے کہ زمينی حقائق کا بغور جائزہ لیں۔
شايد آپ بھول رہے ہيں کہ ہزاروں کی تعداد ميں امريکی فوجی اور چاليس سے زائد نيٹو ممالک کے فوجی بھی افغانستان ميں تعنيات ہيں۔ اس خطے ميں افراتفری، لاقانونيت اور دہشت گردی ميں اضافے سے نا صرف يہ کہ ہمارے اپنے فوجيوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوں گے بلکہ افغانستان ميں طويل المدت بنيادوں پرتعمير وترقی کے ضمن ميں ہماری تمام تر کاوشيں بھی غارت ہو جائيں گی۔ امريکی حکومت کيونکر دانستہ يہ چاہے گی کہ خود اپنے ہی فوجيوں اور اتحاديوں کی کوششوں کی راہ ميں رکاوٹ پيدا کرے، خاص طور پر اس حقيقت کو مدنظر رکھتے ہوۓ کہ صدر اوبامہ نے عوامی سطح پر يہ واضح کر ديا ہے کہ ہم اس خطے سے اپنی فوجی کاوشيں ہر ممکن حد تک کم کرنے کے خواہاں ہيں؟
يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ نيٹو کے کئ ممالک بھی اس بات پر متفق ہيں کہ امريکہ کے ساتھ اتحادی افواج کو سال 2014 کے آخر تک اہم عسکری معرکوں سے عليحدہ ہو جانا چاہيے کيونکہ يہی وہ ٹائم فريم ہے جس کے بعد صدر اوبامہ اور نيٹو کے قائدين متفق ہيں کہ افغان کو طالبان کے خلاف لڑائ ميں کليدی کردار ادا کرنا ہے۔
صدر اوبامہ نے واضح کر ديا ہے کہ مقامی افغان حکومت کی صلاحيت کے حوالے سے درپيش چیلنجز اور اس ضمن ميں مزيد ممکنہ مشکلات کے باوجود امريکی اور نيٹو اتحاديوں نے اپنے اہداف ميں يکسوئ پيدا کر لی ہے تا کہ ملک ميں استحکام کا حصول ممکن ہو سکے ۔
اس موضوع کے حوالے سے صدر اوبامہ کے الفاظ
“ميرا ہدف يہ ہے کہ ميں اس بات کو يقينی بناؤں کہ سال 2014 تک ہم انتقال کا عمل مکمل کر ليں، افغان خود باگ ڈور سنبھال لیں اور اس ہدف کو يقینی بنايا جاۓ کہ اس وقت ہم اس نوعيت کے عسکری آپريشنز ميں شامل نہ ہوں جن ميں ہم اس وقت شامل ہيں”
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ميں سياسی افراتفری ميں اضافے کی صورت ميں ان امريکی اہداف کا حصول ممکن ہے؟ ہماری تو يہ ہر ممکن کوشش ہو گی کہ خطے سے ہماری افواج کے محفوظ اور پرامن انخلاء کو يقینی بنانے کے ليے سياسی استحکام اور پائيدار امن کی فضا کو يقینی بنايا جاۓ۔
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
Facebook
**
[/RIGHT]