Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Such people don’t become suicide bombers, they are too scared of dying themselves, they just mislead other innocent people to such things.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Such people don’t become suicide bombers, they are too scared of dying themselves, they just mislead other innocent people to such things.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
According to AAJ Tv, it was said that mulana sahib is very ba parda khatoon and she doesn't even shows her face to khawateen....lolz :D
hahahaha
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
I am sure some of the Mullah supporters will coem to this thread soon and berate us for being happy. But why shouldn't we be happy, it's a win for the STATE of Pakistan against its declared enemy. These Maulanas werent' just running any movment, they were challenging the entire state's authority.
In fact, I shouldn't even call these two Maulanas, it's an insult to peace lovign real Muslim Maulanas everywhere.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
^^ so they can't take the moral highground can they?
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Im willing to wait ALL day if I have to just to rub this in the face of the Jihadi Guppies... Or Juppies for short!
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
You mean to say, the police don't exist. But I strongly disagree with this.
The military should never be deployed against a nation's own citizens. A police force is in a sense a paramilitary force, and they should be responsible and trained to handle all manner of domestic disturbance.
This is hardly an insurgency.
The fact is, that Pakistan doesn't have a functioning police force is why this situation exists.
dont want to kill the festive mood, but just to mention. Of course Police exists and that in great numbers. but ur last line explains it correct. Its functioning leaves a lot to be desired. 'Pakistan doesnt have a properly functioning police..."
Secondly, the Army was there because in extreme situations it has every right and responsibility to control situations within the country or on its borders alike. And they always do it best. Plus it was the 111 Brigade which has a defined role for law and order duties as well. Secondly, it was the Rangers that formed the front line and were leading the operations. As such Rangers are paramilitary and their role includes handling internal situations.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
There are still around 1,000-1,500 Hard Core militants along with the Mosque's leader....the brother of the clown who got caught in a burka
sorry forgot his name :D
His time will come. This has been a complete vindication of Musharraf's carrot-stick approach.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Unfortunately no one has moral highgrounds in Pakistan now.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Juppies!
![]()
Congrats man. This is sweet.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Im hoping that catches on… We should make a list of them!
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
It goes to show that the 'political' boats are all the same, all the sailors are same whether bearded (Bhagora Maulana Abdul Aziz) or not (Altaf Hussein, Benazir, Nawaz Sharif).
Youre very right!
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
In fact, I shouldn't even call these two Maulanas, it's an insult to peace lovign real Muslim Maulanas everywhere.
I think this should dent all the wanna be jihadis ego...especially after seeing Abdul Aziz in burka. They should know now that these people are using other peoples kids for their own political gains/reasons, and will never send their own kids to fight and die.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Sheeda Lal topi!
Topi kara gaya! ![]()
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Che is the Mullah in chief, with Hareem as the COMS, cheif of mullah staff.
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Just some hardcore jihadists left, but dont think it will be to tough to control them...
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Abdul Aziz’s wife was the principal of the Hafsa Madrasah known as Umme Hassan. I watched her last month on ARY with Fayza Dawood. Very passionately Jihadi she had appeared then, alas to be caught on her burqa clad man’s side. Kinky couple were they!? ![]()
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
lol^^^^^
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
tsk tsk...na mehram women had to frisk him unknowingly. thats hadood punishment there...
Yaar why worry, its not like he had balls anyway ...
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
Read this analysis on BBC on the lal masjid situation and the general rise of radical religiosity in the country. it is in urdu.
وجاہت مسعود
ابھی بات کھلنے میں دیر ہے
بالآخر اسلام آباد کی لال مسجد کے اردگرد آگ کے شعلے، سائرن بجاتی ایمبولینسں گاڑیاں، فضا میں گولیوں کی ترتراہٹ اور دیواروں پر انسانی لہو کے وہ چھینٹے تین جولائی کو نمودار ہوگئے جن کا خدشہ رواں سال کے آغاز سے ظاہر کیا جا رہا تھا جب حفصہ مدرسے کی سیاہ برقعوں میں ملفوف، عسکری انداز میں ایک ہی سائز کے ڈنڈے تھامے عورتوں نے بچوں کی ایک لائبریری پر قبضہ کیا تھا۔
اہلِ نظر نے بھانپ لیا تھا کہ ان برقع پوش ہیولوں کے احترام اور مذہب کی تقدیس کے نام پر کسی بھی وقت ریاست کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے مذہبی عناصر کی حکمت عملی سمجھنا ہو تو کرسٹوفر ایشروڈ کا ناول ’گڈ بائی ٹو برلن‘ پڑھیے۔ اسے محمد حسن عسکری نے ’آخری سلام ‘ کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔( یہ ناول 20ویں صدی کی تیسری دہائی کے ابتدائی برسوں میں جرمنی کی سیاسی و سماجی صورتِ حال پیش کرتا ہے)۔
جنگ میں شکست خوردہ جرمن ریاست کا ڈھانچہ کچی دیوار کی طرح ہِل رہا تھا۔ نسل پرستی اور یہودی دشمنی کے نام پر بےروزگار نوجوانوں کے جذبات بھڑکائے جا رہے تھے۔ فوج اور سیاستدان باہم دست و گریباں تھے۔ روایتی سیاسی قائدین عوام کی مناسب رہنمائی کرنے میں ناکام تھے۔ ادھر ہٹلر نام کے ایک خبطی سابق فوجی کی قیادت میں فسطائی جماعت ریاست پر قبضہ جمانے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔
لال مسجد کا نقاب پوش تنازعہ تین فریقوں میں شطرنج کی پیچیدہ بازی ہے۔ پہلا فریق حکومت ہے جو سمجھتی ہے کہ گہرے سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک نسخہ لال مسجد بھی ہے جسے چوبی مہرے کی طرح آگے پیچھے حرکت دی جا سکتی ہے۔ دوسرا فریق مقتدر حلقوں کا وہ نادیدہ حصہ ہے جو لال مسجد کی شکل میں حکمران جنتا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس کشمکش کا تیسرا فریق وہ عناصر ہیں جو مذہب کے نام پر ریاست اور معاشرے پر تسلط کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔
اس جماعت کے پاس خطرناک مگر دلکش نعرے تھے۔ لڑنے مرنے پر آمادہ نوجوانوں کے جتھے تھے اور نادیدہ ذرائع سے آنے والا سرمایہ تھا۔ حکومت میں مزاحمت کا دم خم تھا اور نہ خواہش۔ طاقتور حلقے سمجھتے تھے کہ وہ فسطائیوں کے ذریعے اپنے مفادات بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن فسطائی عناصر جھوٹ، قتل و غارت اور بے پناہ پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنا کھیل کھیل رہے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتِ حال زیادہ مختلف نہیں۔ معروف جمہوری اصولوں کی روشنی میں حکومت کا دستوری جواز کمزور ہے۔ روایتی سیاسی قیادت کی اہلیت محدود بھی ہے اور اسے جبر کے بل پر بےدست و پا بھی کیا گیا ہے۔ برسوں کی کاوش سے ایسی رائے عامہ تیار کی گئی ہے جو لال مسجد کے کسی خاص واقعے پر اظہارِ ناپسندیدگی تو کر سکتی ہے، فکری سطح پر مذہبی سیاست کی کھل کر مخالفت کا یارا نہیں رکھتی۔ ہئیتِ مقتدرہ کے مختلف حصے باہم تصادم کا شکار ہیں۔ حکومت کے اعٰلی ترین عہدیداروں سے لیکر سیاسی رہنماؤں تک کسی نے لال مسجد کے مؤقف کی عوامی سطح پر مخالفت کی جرات نہیں کی۔
بچوں کی لائبریری پر قبضہ ہو یا غیرمصدقہ الزامات لگا کر خواتین کو اغوا کرنا، خودکش حملوں کی دھمکیاں ہوں یا قانون کے پابند دکانداروں کو ڈرانا دھمکانا، سرکاری زمین پر قبضہ ہو یا غیر ملکی باشندوں کو یرغمالی بنانا، ریاست کے نیمے بروں نیمے دروں ردِ عمل سے گہرے شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ لال مسجد کے کرتا دھرتا افراد کو طاقتور حلقوں میں خفیہ حمایت حاصل ہے۔ اس کا اندازہ لال مسجد کے ڈھاٹے باندھے جوانوں کے ہاتھوں میں جدید اسلحے، گیس ماسک اور دُوبدُو لڑائی کی مہارتوں سے بھی ہوتا ہے۔
حکومت کی طرف سے لال مسجد کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری بنیادی طور پر چوہدری شجاعت کے کندھوں پر رہی ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے ساتھ گفت و شنید میں چوہدری شجاعت کی کمزوری وہی ہے جو 1953 میں خواجہ ناظم الدین کی تھی۔ خواجہ صاحب اپنی مذہبی طبعیت کے باعث مذہبی پیشواؤں کے مطالبات دو ٹوک انداز میں رد کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ چوہدری شجاعت حسین قانون شکنی پر تُلے ہوئے لال مسجد کے رہنماؤں کی دِلجوئی کرتے ہوئے انہیں بتاتے ہیں کہ خود ان کے گھر میں ان کی اہلیہ نے ٹیلی ویژن سیٹ توڑ دیا ہے۔
لال مسجد کا احتجاج ناجائز طور پر تعمیر شدہ مساجد کے انہدام سے شروع ہوا تھا اور اس کی تان مبینہ فحاشی کے خلاف مہم اور نفاذ شریعت کے مطالبے تک آن پہنچی ہے۔ دنیا کی کوئی حکومت فحاشی کے ضمن میں مذہبی پیشواؤں کی تسکین نہیں کر سکتی۔فحاشی تو ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ تاریخی تناظر میں یہ امر واضح ہے کہ مذہبی پیشوا جب شریعت کے نفاذ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو ان کا اصل مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کی باگ ڈور ان کے سپرد کر دی جائے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔
لال مسجد سے متعلق واقعات کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور حکومتی سطح پر استعمال ہونے والی لغت حیران کن ہے۔ لال مسجد کے برقع پوش اور ڈنڈا بردار جتھے کسی شہری یا سرکاری اہلکار کو اغوا کرتے ہیں تو اسے ’گرفتار کرنا‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اعٰلی سرکاری عہدیداروں کی طرف سے للوپتو کے بعد ان مغویوں کو بازیاب کیا جاتا ہے تو اسے ’رہائی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے۔ دارالحکومت میں ریاستی انتظامیہ اور قانون شکن عناصر میں فائرنگ کا تبادلہ رکنے پر ’فائربندی‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ منگل کی شام قائد حزبِ اختلاف فضل الرحمان صاحب نے خونریز جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ مسلسل مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تو لال مسجد کے ساتھ مذاکرات کیوں جاری نہیں رکھے جا سکتے۔ گویا لال مسجد کا قضیہ بھی دو ریاستوں کے درمیان بین الاقوامی تنازعہ ہے۔
متعدد تجزیہ نگاروں نے اس حسنِ اتفاق کی طرف توجہ دلائی ہے کہ موجودہ عدالتی بحران میں جب بھی کوئی اہم موڑ پیش آتا ہے لال مسجد الہ دین کے چراغی جن کی طرح نمودار ہو جاتی ہے۔
تیرہ مارچ کو چیف جسٹس کی پہلی پیشی کے موقع پر اسلام آباد میں خواتین کے اغوا کا واقعہ پیش آیا۔ دو جولائی کو سرکاری وکلا کو عدالت عالیہ میں پیش کردہ دستاویزات کے ضمن میں خاصی جامع خفت اٹھانا پڑی۔ اگلے ہی روز لال مسجد کے باہر آگ اور خون کا کھیل شروع ہو گیا۔ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ منگل کے روز جھڑپوں میں پہل کس نے کی تھی۔
ایک تعجب انگیز نکتہ یہ ہے کہ غیرمعمولی طور پر فعال سپریم کورٹ نے لال مسجد سے رونما ہونے والے پےدر پے واقعات پر از خود نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اسلام آباد کے ایک باخبر صحافی کے مطابق لال مسجد کا نقاب پوش تنازعہ تین فریقوں میں شطرنج کی پیچیدہ بازی ہے۔ پہلا فریق حکومت ہے جو سمجھتی ہے کہ گہرے سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک نسخہ لال مسجد بھی ہے جسے چوبی مہرے کی طرح آگے پیچھے حرکت دی جا سکتی ہے۔ دوسرا فریق مقتدر حلقوں کا وہ نادیدہ حصہ ہے جو لال مسجد کی شکل میں حکمران جنتا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس کشمکش کا تیسرا فریق وہ عناصر ہیں جو مذہب کے نام پر ریاست اور معاشرے پر تسلط کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس رستاخیز میں حقیقی فائدہ غالباً تیسرے فریق ہی کو مل رہا ہے جو متشدد مذہبی سیاست کو وزیرستان کی پہاڑیوں سے مارگلہ کے دامن میں لے آیا ہے۔
اب بھلے حکومت لال مسجد کے خلاف کچھ بھی کارروائی کرے، مذہبی جنونی لال مسجد سے اٹھنے والی چنگاریوں کو جگنوؤں کی طرح اپنی ٹوپیوں میں سنبھال کر ملک کے کونے کونے میں پھیل جائیں گے۔ صدیق سالک نے لکھا تھا کہ نظریات کو کچلنا بندوقوں کے بس میں نہیں ہوتا ۔ لال مسجد کے ضمن میں تو اتنی تاخیر کی گئی ہے کہ سرکاری بندوق کی نالی میں بہت سا زنگ بھی لگ گیا ہے۔
Re: Breaking News: Paramilitary Police clash with Lal Mosque idiots!
This Abdul aziz guy is masters from QAU... Which is a coeducation institution... Surprising then for him to be sooooooo conservative...