Re: Insurgents suffer bloody reprisals
A few days back the army was touting these disappearances and killings of nationalists as a means to end this uprising, I guess now they have come to the conclusion that these high handed tactics wont solve this problem so now they have started distancing themselves from the tactic.
ایوب ترین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی حل اور بلوچ قوم پرستوں کو مذاکرات کے عمل کی طرف راغب کرنے کے لیے فوج کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔
انہوں نے یہ بات پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جنوبی کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء کے اس بیان کے تناظر میں کہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صوبے میں لوگوں کی گمشدگی اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا عمل اگر نہ روکا گیا تو اس سے مستقبل میں پاکستان کی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے۔
**
لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیا نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ میں جشن آزادی کے تقریبات کے حوالے سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران کہی تھی۔**
**مسٹر اختر مینگل نے کہا کہ اگر فوج یہ سمجھتی ہے کہ وہ قوم پرستوں کو گرفتار کر کے اور ان لی لاشیں ویرانے میں پھینک کر وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لا سکتی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔
**
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ اختیارات کے اصل مالک کون ہیں۔ ’ابھی تک تو فوج اور سویلین حکمران گیند ایک دوسرے کے کورٹ میں پھینکتے آئے ہیں۔‘
**کور کمانڈر بلوچستان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لاپتہ ہونے اور بعدازاں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کو ’میں ذاتی طور پر ایک مکروہ عمل سمجھتا ہوں اور پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ فوج یا اداروں کی یہ پالیسی ہی نہیں ہے بلکہ کچھ عناصر اس میں فوج اور اداروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں‘۔
****ان کا کہنا تھا کہ ’اس مکروہ اور گندے عمل سے فوج فرنٹیئرکور اور خفیہ اداروں کا کوئی تعلق نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ عمل اگر روکا نہ گیا تو مستقبل میں ملکی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس لیے اس عمل کو رکنا چاہیے‘۔
**
لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء نے کہا کہ ’بلوچستان میں صوبائی حکومت معاشی و سماجی استحکام کے لیے اگر مری، بگٹی مینگل سمیت کسی بھی ناراض کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے تو فوج اس میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی فوج کو اس حوالے سے کوئی اعتراض ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ فاصلے ختم ہوں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ملکی استحکام کے لیے مل جل کر کام کیا جائے‘۔
انہوں نے کہا اس وقت ملک کو جس طرح کے خطرات کا سامنا ہے اس میں قومی یکجہتی اہم ضرورت ہے اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ہی مستحکم پاکستان کے خواب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بلوچ ناراض ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ تریسٹھ سالوں میں بلوچستان کے سماجی مفادات کی نگہداشت نہیں ہو سکی۔
’بلوچ بھائیوں کی ناراضی کا ہمیں احساس ہے لیکن اگر ماضی میں کوئی غلطیاں ہوئی بھی ہیں تو اب وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور اختلافات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ قومیت اور زبان کی بنیاد پر اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن مذہب کی بنیاد پر ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس لیے مذہب کی بنیاد ہمیں اتحاد و یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے‘۔
**لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بلوچ ناراض ہیں جو جھنڈا جلاتے ہیں ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں بلکہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں‘۔
**
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اگر سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کے سماجی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ لاقانونیت کا بھی خاتمہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج نیک نیتی سے ملکی استحکام کے لیے کوشاں ہے اور ’ہم عوام اور فوج کے مابین باہمی تعاون اور اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط و مستحکم بنانا چاہتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر قطعاً درست نہیں کہ فوج وسائل پر قابض ہو رہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء کا کہنا تھا کہ وسائل پر قبضہ کی پالیسی نہیں البتہ ان وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرنے کے لیے فوج کوششیں ضرور کر رہی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے، وہ عوام کے زیادہ قریب ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں میڈیا فوج اور عوام کے مابین فاصلوں کو کم کرنے اور ملکی استحکام کے لیے اپنا موثر و عملی کردار ادا کرے۔
ان کے مطابق اس سال بلوچستان میں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منایا جائےگا اور ہماری بھرپور کوشش یہ ہے کہ عوام اس میں قومی جذبے کے ساتھ شریک ہوں اوراس قومی جذبے کو ابھارنے میں میڈیا اپنا بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔