جماعتہ الدعوہ , Future ISIS , Boko Haram , Taliban , Mujahideen

Re: جماعتہ الدعوہ , Future ISIS , Boko Haram , Taliban , Mujahideen

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

نئ خبروں اور تبديل ہوتی ہوئ صورت حال سے اپنے نظريات کو ہم آہنگ رکھنے کی غرض سے کچھ راۓ دہندگان جتنی تيزی کے ساتھ اپنے دلائل يکسر بدل ڈالتے ہيں اور اپنی ہی بنائ ہوئ کہانيوں کو نظرانداز کرتے ہيں، وہ يقینی طور پر ايک حيران کن امر ہے۔ کيا يہ درست نہيں ہے کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک اردو فورمز پر امريکی ناقدين عراقی حکومت کے حوالے سے جو اصطلاح سب سے زيادہ استعمال کرتے تھے وہ يہی تھی کہ يہ تو محض “امريکی کٹھ پتلی” حکومت ہے۔ اور اب جبکہ اسی حکومت کے خلاف برسر پيکار آئ ايس آئ ايس نامی تنظيم منظرعام پر ابھری ہے تو ايک بار پھر ہميں ہی اس “فتنے” کے ليے مورد الزام قرار ديا جا رہا ہے۔ اگر يہ راۓ دہندگان اپنی گزشتہ سوچ کو تہہ دل سے درست سمجھتے تھے اور اس بات پر قائل تھے کہ عراقی حکومت اور اس کے عہديدار محض ہماری کٹھ پتلياں ہيں تو پھر کس منطق کے تحت ہم اپنی مبينہ طور پر ماتحت حکومت کے خلاف آئ ايس آئ ايس کی مدد يا حمايت کريں گے؟

يقينی طور پر آپ يہ توقع نہيں کر سکتے کہ ہم ايک ايسے گروہ کے ليے اپنے وسائل وقف کريں گے جو خطے ميں ہماری ہی مبينہ حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے؟

يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ البغدادی اور آئ ايس آئ ايس کی چھتری کے نيچے کام کرنے والے جرائم پيشہ افراد کا ٹولہ جن مختلف محرکات کی وجہ سے اکٹھے ہوۓ ہيں، ان ميں کوئ بھی امريکی يا مغربی مفادات کی طرف نہيں جاتا۔

ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح رہے کہ البغدادی کے جذباتيت سے مزين بيانات اور نۓ “فوجيوں” کی بھرتی کی غرض سے تيار کردہ پروپيگنڈہ ويڈيوز ميں اہم ترين عنصر امريکہ اور خطے ميں ہمارے شراکت داروں کے خلاف زہر افشانی ہی ہوتا ہے۔ بلکہ جنوری ميں آئ ايس آئ ايس کے جنگجوؤں سے اپنے خطاب ميں البغدادی نے ان الفاظ کے ساتھ امريکہ کو دھمکی دی تھی۔
“بہت جلد ہم براہراست آپ کے ساتھ محاذ آرائ کا حصہ ہوں گے۔ ہمارا انتظار کريں کيونکہ ہم آپ پر نگاہ رکھے ہوئے ہيں”۔

علاوہ ازيں سال 2011 ميں ايبٹ آباد کے کامياب آپريشن کے بعد البغدادی اور اس کے گروہ نے اپنی ويب سائٹ پر اس عزم کا اظہار کيا تھا کہ اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لينے کے ليے عراق کے طول وعرض ميں سو سے زيادہ حملے کيے جائيں گے۔

يقينی طور پر آپ امريکی حکومت سے يہ توقع نہيں کر سکتے کہ ہم ايک ايسے فرد کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کريں گے جو نا صرف يہ کہ ايک مسلح گروہ تيار کر رہا ہے بلکہ جو عوامی سطح پر ہمارے شہريوں اور مفادات پر حملوں کا ارادہ بھی ظاہر کر چکا ہے۔

ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح رہے کہ امريکی وزارت خارجہ نے اکتوبر 4 2011 کو البغدادی کو ايک عالمی دہشت گرد قرار ديتے ہوۓ اس کی گرفتاری اور موت کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی کی صورت ميں 10 ملين ڈالرز کی انعامی رقم کا بھی اعلان کيا تھا جس کی اہميت کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ بين الا اقوامی دہشت گرد تنظيم القائدہ کے ليڈر ايمن الزھواری پر مقرر کردہ 25 ملين ڈالرز کی انعامی رقم کے بعد يہ سب سے بڑا انعام ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

**

http://s1.postimg.org/7ml0rqzgv/10557356_757493807644113_2001357585079651558_n.jpg

[/RIGHT]