Announcement

Collapse
No announcement yet.

Science of rain

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Science of rain

    (القرآن 2:22) جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت، اور اتارا آسمان سے پانی
    تفسیر در المنثور میں اس آیت 2:222 کے ذیل میں علامہ سیوطی نے یہ روایات نقل کی ہیں (لنک):
    حضرت ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ اس سے پوچھا گیا بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے یا بادلوں سے؟ انہوں نے جواب دیا آسمان سے کیونکہ بادل نشانی ہے اس پر پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے۔
    حضرت ابو الشیخ نے وھب سے روایت کیا ہے کہ میں بارش کے بارے میں نہیں جانتا کہ بادل میں آسمان سے قطرہ نازل ہوتا ہے یا بادلوں میں پیدا کیا جاتا ہے پھر بارش ہوتی ہے۔
    امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب سے روایت کیا ہے کہ بادل بارش کی چھلنی ہے آسمان سے پانی نازل ہوتے وقت اگر بادل نہ ہوتے تو پانی خراب کر دیتا زمین کی ہر چیز کو جس پر واقع ہوتا اور بیج بھی بھی آسمان سے نازل ہوتا ہے۔
    ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے خالد بن مہران سے روایت کیا ہے کہ بارش وہ پانی ہے جو عرش کے نیچے سے نکلتا ہے پھر نازل ہوتا ہے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک یہاں تک کہ آسمان دنیا میں جمع ہو جاتا ہے پھر ایسی جگہ میں جمع ہوتا ہے جس کو ایزم کہتے ہیں ، پھر کالے بادلوں کو لایا جاتا ہے وہ اس پانی میں داخل ہو کر اسفنج کی طرح اس کو چوس لیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہتے ہیں اس کو ہانک دیتے ہیں۔ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے
    امام ابن حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے ساتویں آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اس میں سے ایک قطرہ اونٹ کی طرح بادل پر واقع ہوتا ہے۔
    امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے خالد بن یزید سے روایت کیا ہے کہ بارش اس پانی میں سے ہے جو آسمان سے ہوتی ہے۔ اور اس میں کچھ پانی ایسا ہوتا ہے جس کو بادل سمندر سے پی لیتے ہیں پھر اس کو گرج اور بجلی میٹھا کرتی ہے اور جو پانی سمندر میں سے ہوتا ہے اس سے سبزہ نہیں اگتا ہے اور سبزہ آسمان کے پانی سے اگتا ہے۔
    مزید دیکھیں کہ فرات اور نیل کا میٹھا پانی کہاں سے آتا ہے۔
    صحیح بخاری، کتاب التوحید (لنک):معراج کے سفر کے دوران رسول کی نظر دو نہروں پر پڑی جو بہہ رہی تھیں، آپ نے فرمایا اے جبریل! یہ دو نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہیں۔
    صحیح بخاری، مخلوقات کی ابتدا کا بیان (لنک):
    رسول اللہ (ص) نے معراج کے سفر کے متعلق فرمایا ۔۔۔۔مجھے سدرۃ المنتہیٰ(درخت) بھی دکھایا گیا تو اس کے پھل (بیر) اتنے موٹے اور بڑے تھے جیسے ہجر (مقام) کے مٹکے اور اس کے پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان اس (سدرہ المنتہیٰ درخت) کی جڑ میں چار نہریں تھیں دو اندر اور دو باہر میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اندر والی نہریں تو جنت میں ہیں اور باہر والی نہریں دریائے فرات اور دریائے نیل ہیں

  • #2
    If you really want to explore scientific reason of everything then you must read the Holy Quran as you will find all the answer of your question. As God has explained each and everything to us in Holy Quran.

    Comment

    Working...
    X