Announcement

Collapse
No announcement yet.

A extract by Nasir Kazmi

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • A extract by Nasir Kazmi


    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
    تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
    مرے لئے کوئی شایانِ التماس نہیں
    ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
    مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
    کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے
    اب اُن دنوں کا تصّور بھی میرے پاس نہیں
    گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
    سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مِٹ جائے
    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

    ~ناصر کاظمی~


  • #2
    Very nice.

    Comment

    Working...
    X