کالم۔
پاکستان کے لیے شہید ہونے والا پہلا رہنما ۔ موہن داس کرم چند گاندھی
حاشر ابن ارشادجانتے ہو دوست کہ اس دنیا میں جس میں ہم اور تم بستے ہیں، اس دنیا کی ایک تاریخ ہے جو لکھ دی گئی ہے۔ تاریخ کی اس کتاب کے کچھ ورق بہت روشن ہیں۔ ان اوراق پر لکھے الفاظ کی گلیوں میں ابدی چراغ روشن ہیں۔ نور کے مینارے ہیں، کھلتے ہوئے پرچم ہیں اور عقیدت کی خامشی ہے۔ تاریک غلام گردشوں میں عمر بتا دینے والے پر ان گلیوں سے دور رہتے ہیں۔ اندھیرے کی خوگر آنکھوں کو روشنی چبھتی ہے، تکلیف دیتی ہے۔ پر کیا ہے کہ روشنی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ آنکھیں بند کر لینے پر اگر اصرار نہ ہو تو راستہ سوجھ ہی جاتا ہے۔ایک تاریخ کلینڈر پر بھی ہوتی ہے۔ ایک سے ہندسے، ایک سی تحریر والی تاریخیں۔ یہ دن ہیں جو اس جہان پر گزرتے ہیں۔ ان میں سے ہر دن کے ساتھ کسی نہ کسی کی کوئی یاد جڑتی ہے۔ کچھ ہنستی صبحیں، کچھ بھیگی شامیں ہر تاریخ کے پیچھے سے جھانکتی ہیں۔ انہی میں سے کچھ دن نوع انساں کی میراث ہیں، خاص ہیں۔ ان محترم دنوں میں سے ایک دن تیس جنوری کا ہے۔ دنیا کو اس دن کی کہانی معلوم ہے، نہیں معلوم تو ان الم نصیب بے خبر روحوں کو جن کے لیے یہ کہانی کسی نے اپنے خون سے لکھی۔ اس لیے اس بار بھی یہ دن آیا اور گزر گیا۔ دل تھا کہ پھر بہل گیا، جان تھی کہ پھر سنبھل گئی پر اس بے خبری کی کوئی حد تو چاہیے تو چلو آج یہ کہانی تم بھی سن لو کہ نصاب کی کتابوں میں یہ داستان نہیں ملنے کی۔موہن داس کرم چند گاندھی کے نام کو سب جانتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ گاندھی سے پہلا تعارف ایک شعر کے حوالے سے ہوا جو کہ ایک درسی کتاب میں درج تھا۔ بچپن تھا، خیال یہ تھا کہ سب سے زیادہ سچی باتیں درسی کتابوں میں ہوتی ہیں، سب سے ثقہ آدمی مولانا کہلاتا ہے اور سب سے عقلمند آدمی پرائمری اسکول کا استاد ہوتا ہے۔ شعر تھا کہبھارت میں بلائیں دو ہی تو ہیں، اک ساورکر اک گاندھی ہےاک جھوٹ کا چلتا جھکڑ ہے، اک مکر کی اٹھتی آندھی ہےاستاد محترم نے بتایا کہ یہ کلام گرانقدر مولانا ظفر علی خان کا ہے ۔ لیجیے مہر تصدیق ثبت ہوئی ۔ اس کے بعد کچھ ہندو بنیا، مسلم دشمن، مکاری، فریب، دھوکہ جیسے لفظوں کی گردان تھی۔ ساورکر تو تشریح سے غائب رہا کہ استاد من کو شاید ونائیک دامودھر ساورکر کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں تھی پر گاندھی کو خوب رگڑا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سکول کا دن ختم ہونے تک گاندھی مکروفریب اور مسلم دشمنی کا استعارہ ٹھہرا۔ جناح صاحب کے سر پر محنت سے دستار سجا دی گئی اور سروجنی نائیڈو کی شہادت کی چھڑی ٹیکے وہ سو گاندھیوں پر بھاری ٹہرے۔ پھر جناح صاحب سے منسوب باتیں کانوں کے بیچ کر دی گئیں جس میں گاندھی کبھی سانپ بنے تو کبھی کشن کنہیا۔اچھے دن تھے، تشکیک کا پودا ابھی پھوٹا نہیں تھا۔ جو بڑے کہتے تھے، مان لیتے تھے۔ پر اچھے دن ہمیشہ کہاں رہتے ہیں۔ عمر بڑھی، مطالعے کی ایک بیکار عادت پڑ گئی۔ جو کتاب جہاں سے ہاتھ لگی، چاٹ ڈالی۔ نثر سے شاعری ، شاعری سے فلسفہ اور فلسفے سے تاریخ تک ایک نہ رکنے والی رولر کوسٹر نے ساری بنی بنائی داستان کا ستیاناس کر ڈالا۔ ایک ہی شخص اور ایک ہی کہانی کو دس زاویوں سے پرکھا اور سچ نتھر کر سامنے آتا چلا گیا۔داستان طولانی ہے۔ اتنا وقت کہاں کہ پوری سنائیں تو ایک ہی پنہ الٹتے ہیں۔ اس دیو کی کہانی کا ایک پنہ جسے ہم نے ظفر علی خان جیسے بونوں کی نظر سے پرکھنے کی غلطی کی۔آج بھی ہمارے دوست ہمیں ان قربانیوں کی داستان سناتے ہیں جو ہمارے پرکھوں نے پاکستان کے لیے دیں۔ یہ وہی دوست ہیں جو کچھ روز پہلے اے پی ایس کے معصوم بچوں کو بھی قربانی کا لباس پہناتے تھے۔ افسوس کہ یہ نہ قربانی کا مفہوم جانتے ہیں نہ علت اور معلول کے ہجے۔ قربانی اپنی مرضی سے دی جاتی ہے۔ حالات اور واقعات کے جبر کے شکار ہونے کو قربانی نہیں کہتے۔ کٹی پھٹی لاشیں، لٹی عصمتیں اور دربدر خاندانوں نے تقسیم ہند کا ڈرافٹ تحریر نہیں کیا تھا، یہ تو تقسیم کی قیمت تھی جو انہوں نے چکائی تھی۔ قربانی نے ملک نہیں بنائے تھے۔ ملک بنانے کے لیے کھنچی لکیروں نے قربانی کا خراج لیا تھا۔ کیا کوئی درسی کتاب یہ بتانے کا حوصلہ رکھتی ہے کہ ہندو مسلم فسادات کی نیو 16 اگست 1946 کو یوم راست کے سر پر رکھی گئی جو جناح صاحب کی اپیل پر منایا گیا تھا۔ گجرات کے مودی کا کردار اس دن بنگال کے سہروردی کے پاس تھا۔ پہلا دن مسلمانوں کے نام رہا تو اگلے دن ہندوؤں نے اپنی اننگ کھیلی۔ خون دونوں دن سرخ تھا۔ چنگاری سے لگی آگ میں بہار کے مسلمان بھی جلے اور نواکھلی کے ہندو بھی۔ گڑھ مکتیشور میں ہر ہر مہا دیو کے نعرے گونجے اور راولپنڈی میں اللہ اکبر کی صدائیں۔ اس بیچ صرف ایک گاندھی ہاتھ جوڑ کر اس دیوانگی کے آگے دیوار بننے کی کوشش کر رہا تھا۔یوم راست یا ڈائریکٹ ایکشن ڈے کو دس ماہ گزرتے ہیں اور ایک میز پر بیٹھ کر جناح، نہرو، ابوالکلام آزاد، امبیڈکر اور تارا سنگھ مذہبی بنیادوں پر تقسیم پر متفق ہوتے ہیں۔ گاندھی اکیلی آواز ہے جو نفرت کے پودے کو تناور درخت بنتے دیکھ رہی ہے۔ وہ اپنی آواز ان سب آوازوں میں ملانے کو تیار نہیں ہے جو تقسیم کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں دیکھتے پر سیلاب کا زور بہت ہے اور ایک نحیف آواز اس کے آگے بند نہیں باندھ پاتی۔ 5 اپریل 1947 کو گاندھی لارڈ ماونٹ بیٹن تک پیغام پہنچاتے ہیں کہ وہ جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیں پر ہندوستان کو بانٹیں مت۔ پر فیصلے ہو چکے ہیں۔ سو تقسیم ایک حقیقت بنتی ہے اور جون 1947 سے لے کر 15 اگست 1947 تک لاکھوں جانوں کی بھینٹ وطنیت اور مذہبیت کے دیوتا کو بلی کی جاتی ہے۔ امرتا پریتم وارث شاہ کے حضور بین کرتی ہے۔اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ دتا اے زہر ملا
تے اونہاں پانیاں دھرت نوں دتا زہر پلا
دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیاں چون
اج پریت دیاں شہزادیاں ، وچ مزاراں رون
پر وارث شاہ جاگ بھی جاتا تو کیا کر لیتا۔ ملک بن جاتے ہیں۔ گاندھی کی کوشش ہار جاتی ہے۔ اب کیا ہو۔ گاندھی کی جگہ کھڑے ہوں تو لگے کہ اب وہ صرف اس نئے ملک، اس کے لوگوں، اس کے رہ نماوں سے نفرت ہی کر سکتا ہے۔ اور یہی وہ سبق تھا جو ہم نے بچپن میں پڑھا ۔ ہم نے ہندو سے بھی نفرت سیکھی اور گاندھی سے بھی۔ ہاں سکھ اور ماسٹر تارا سنگھ کی شمشیر عریاں قابل معافی ٹھہری کیونکہ وہ معصوم بچے تھے جو مکار ہندو کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ باقی رہے مسلمان تو وہ اخلاق اور شرافت کی داستانیں رقم کرتے رہے۔ شاہ عالمی، وزیر آباد، راولپنڈی اور گجرات کی خون آلود داستانیں تو محض سازشی ذہنوں کی اپچ تھی۔اسے چھوڑتے ہیں اور ایک ہارے ہوے گاندھی کے پاس پھر چلتے ہیں۔ ملک بٹ گئے ہیں پر اثاثوں کی تقسیم کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ پچھتر کروڑ میں سے پاکستان کو صرف بیس کروڑ ملے ہیں۔ پچپن کروڑ دینے میں ہندوستانی حکومت روڑے اٹکا رہی ہے۔ ایک نوزائیدہ ملک کے باشندے ایک خوفناک بحران کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔ ادھر دہلی میں مسلم آبادی کا قتل عام شروع ہے۔ سرحد کے اس پار سے پہنچی سچی جھوٹی داستانوں کی وجہ سے ہندو اکثریت نے شہر میں قتل، عصمت دری اور لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا ہے۔ حکومت مستعد نہیں ہے۔ نہرو اشک شوئی کرتے ہیں پر مسئلے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ گاندھی کو یہ دونوں معاملات قبول نہیں۔ نہ وہ مسلمانوں کو تباہ ہوتے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کی اخلاقیات اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ پاکستان کے اثاثوں کی منتقلی میں تاخیر پر خموش رہیں۔سیاست کی باگ ڈور اب اوروں کے ہاتھ میں ہے۔ ایک لاٹھی ٹیکے بوڑھے نحیف گاندھی کے پاس صرف اس کے آدرش ہیں اور ان کی بازار میں قیمت ٹکے کی نہیں ہے۔ نفرت اور وحشت کا بازار گرم ہے اور ہر کوئی جلتی پر تیل ہی ڈالنے کو بہتر جانتا ہے۔ گاندھی کے لیے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اگر وہ حکومت اور انتظامیہ کے کارپردازوں کو پاکستان اور دہلی کے مسلمانوں کی مدد کے لیے راضی نہیں کر سکتے تو پھر کوئی بہت انتہائی قدم ہی اٹھانا پڑے گا۔ گاندھی کے پاس داؤ پر لگانے کو ایک جان ہے سو بازی اسی کی کھیلنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ 12 جنوری 1948 کو گاندھی مرن برت کا اعلان کرتے ہیں۔ حکومت ایک دن میں گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ 13 جنوری کو کابینہ اپنے پچھلے فیصلے کو منسوخ کرتے ہے اور پاکستان کو پچپن کروڑ کے اثاثے دینے کا فیصلہ دنیا کو سنا دیا جاتا ہے۔ پر ابھی مسلم آبادی کی حفاظت پر گاندھی کے تحفظات ہیں۔ وہ 18 جنوری تک اپنا برت جاری رکھتے ہیں تاوقتیکہ انتظامیہ کے ٹھوس اقدامات امن کی بحالی کا مظہر نہیں بن جاتے۔ اس کے بعد وہ ایک ایک کر کے ان علاقوں کا دورہ شروع کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کے لیے حالات ناسازگار ہیں۔ ہندو انتہا پسند اس مسلم اور پاکستان پسندی پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ گاندھی پر پاکستان دوست ہونے کا لیبل لگتا ہے۔ انہیں ہندوتوا کا دشمن قرار دیا جاتا ہے پر کوئی بیان، کوئی دھمکی گاندھی کی راہ کھوٹی نہیں کر پاتی۔تقسیم کا ناقد اب پاکستان کے اصولی موقف کے حق میں ہندوستانی سیاست کی سب سے توانا آواز ہے۔ مسلمانوں کو پورے ہندوستان میں باپو کا ہی سہارا ہے۔ وہ کھڑا ہے اپنے پورے قد سے۔ اس کا جسم نحیف ہے لیکن اس کے لفظ اب بھی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ خطروں سے آگاہ ہے لیکن اس کے پاؤں میں لغزش نہیں ہے۔ پر تیس جنوری کا دن ان پہنچا ہے۔ شام کا وقت ہے۔ گاندھی روز کی دعا کے لیے باہر آتے ہیں۔ نتھو رام گوڈسے ان کا منتظر ہے۔ گاندھی کے آگے قاتل جھکتا ہے کہ کوئی شک نہ کر سکے۔ گاندھی کا ہاتھ آشیرباد کے لیے اٹھ رہا ہے کہ گوڈسے سیدھا ہوتا ہے اور ریوالور سے ایک کے بعد ایک تین گولیاں گاندھی کے دل میں اتر جاتی ہیں۔ آواز خاموش کر دی جاتی ہے۔ گوڈسے اپنے مقدمے میں گاندھی کو مسلمانوں اور پاکستان کا ہمدرد ٹھہراتا ہے اور اپنے جرم کو اس جواز کی سند دیتا ہے۔ پاکستان اور مسلمانوں کے نام پر پہلا رہنما شہید ہو جاتا ہے۔ وہی رہنما جو تقسیم کے بعد ہندوستان کی سرزمین پر ہمارے حقوق کا اکیلا محافظ تھا ۔ وہ جو پچھڑ جانے والوں کا اکیلا سہارا تھا۔ وہ جسے تاریخ ہمارا محسن ٹہراتی ہے اور ہم اسے مکر کی اٹھتی آندھی سمجھتے ہیں۔ اے کمال افسوس ہے، تجھ پر کمال افسوس ہے